Showing posts with label hindi film. Show all posts
Showing posts with label hindi film. Show all posts

Sunday, 29 January 2017

ALI SAFYAN AFFAQI (Writer, Producer, Director) علی سفیان آفاقی،،، ایک تحریر۔۔۔

علی سفیان آفاقی اداکارہ زیبا کے ہمراہ ایک یادگار تصویر

علی سفیان آفاقی
(1933ء ۔ 2015ء)
علی سفیان آفاقی کا شمار ایک طرف بہترین مصنفین کی صف اول میں ہوتا تھا تو دوسری طرف صحافت میں بھی اُنھوں نے اپنی صلاحیتوں کو منوایا، بطور سفرنامہ نگار بھی ان کا اسلوب جدا گانہ تھا۔فلمی مکالمہ نویسی اور کہانی نویس کی حیثیت سے بھی انہیں نے اپنے آپ کو منوایا۔
علی سفیان آفاقی 22۔ اگست 19333ء کو بھوپال کے شہر سیہور میں پیدا ہوئے۔ میرٹھ میں پرورش پائی اور قیام پاکستان کے بعد لاہورآگئے۔ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور سے گریجوایشن کی۔ 1951 ء میں اخبار ’’تسنیم‘‘ سے باقاعدہ صحافت کا آغاز کیا، بعد ازاں اخبار کے فلمی صفحہ کے انچارج بھی مقرر ہوئے اور یہیں سے ان کا فلمی دنیا سے ربط و ضبط بڑھا۔ فلمی صحافت میں ان دنوں شباب کیرانوی بھی فلمی رسالے کی ادارات کرتے تھے۔ یوں جب شباب کیرانوی نے فلم ’’ٹھنڈی سڑک‘‘ بنانے کا ارادہ کیا تو اس فلم کے مکالمے علی سفیان سے لکھوائے۔ اس کے بعد وہ کراچی کے ہفت روزہ ’’نگار‘‘ کے لئے لاہور کی ڈائری اور وقتًا فوقتًا مضامین بھی ’’علی بابا‘‘ کے قلمی نام سے لکھنے لگے مگر روزنامہ ’’آفاق‘‘ سے طویل وابستگی کی وجہ سے ان کا نام علی سفیان سے زیادہ ’’ آفاقی‘‘ ان کی پہچان بن گیا۔
 علی سفیان آفاقی مختلف اخبارات اور رسائل سے وابستہ رہے جن میں اقوام، آثار، آفاق، نوائے وقت، امروز، احسان، جنگ وغیرہ شامل ہیں۔

 فلمی دنیا میں آفاقی کی شہرت فلم ’’فرشتہ‘‘ اور ’’شکوہ‘‘ سے ہوئی۔ ان دونوں فلموں کے پر اثر مکالمے انہوں نے تحریر کئے تھے۔ انہی دنوں علی سفیان آفاقی نے ایک کہانی ’’کنیز‘‘ کے نام سے لکھی اور اسے کئی فلم سازوں کو سنایا مگر کسی کو پسند نہ آئی لیکن ان کو یقین تھا کہ اس کہانی کو فلما یا گیا تو اسے پسند کیا جائے گا۔ لہٰذا انہوں نے ہدایت کار حسن طارق کے ساتھ مل کر خود اس فلم کو بنانے کا فیصلہ کیا اور اداکارو حید مراد، محمد علی اور زیبا کو لے کر بحیثیت فلم ساز ’’کنیز‘‘ بنائی۔ یہ فلم باکس آفس پر کامیاب رہی۔ اسی فلم کے مکالموں پر انہوں نے نگار ایوارڈ حاصل کیا۔ فلم ’’کنیز‘‘ کی کامیابی نے ثابت کردیا کہ وہ مزاحیہ فلموں ہی کے نہیں ڈرامائی مکالمے بھی لکھ سکتے ہیں۔ بعد ازاں فلم ’’سوال‘‘ اور ’’جوکر‘‘ کے مکالموں کو بھی شائقین ہی نہیں قائدین نے بھی سراہا۔ اور پھر علی سفیان آفاقی نے مصنف وفلم ساز کے بعد بطور ہدایت کار فلم ’’آس‘‘ 1973ء میں بنائی جس میں محمد علی اور شبنم نے مرکزی اداکار کئے تھے۔ فلمی رسالہ ’’ممتاز‘‘ کے مالک رشید جاوید کے اشتراک سے بننے والی یہ فلم بھی سپر ہٹ رہی جس نے آٹھ نگار ایوارڈ حاصل کئے، ان میں سے چارایوارڈ علی سفیان آفاقی نے بطور فلم ساز، ہدایتکار ، کہانی نویس اور مکالمہ نویس حاصل کئے بلکہ 1982 ء سے 1984 ء تک تین سال مسلسل نگار ایوارڈ حاصل کرنے کی ’’ہیٹ ٹرک‘‘ بھی کی۔ علی سفیان آفاقی نیشنل فلم ایوارڈ جیوری کے 1988ء سے 1991ء تک ممبر بھی رہے۔
 علی سفیان آفاقی نے دیگر فلموں ہدایت کار فرید احمد کی فلم عند لیب ،ہدایت کارشریف نیئرکی فلم دوستی، ہدایت کار شمیم آرا کی فلم مس کو لمبو ،پلے بوائے، ہدایت کار لقمان کی فلم آدمی کے مکالمے بھی لکھے۔
 علی سفیان آفاقی نے تیس سالہ فلمی دور میں پچاس سے زائد فلموں کے مکالمے اور کہانیاں لکھیں۔ ان کی چند مشہور فلموں میں ایاز، آدمی، سزا،آس، ٹھنڈی سڑک، فرشتہ، آج کل، جوکر، قتل کے بعد، ایک ہی راستہ، آسرا، سوال، دیوانگی، فاصلہ، میں وہ نہیں، میرے ہم سفر، مہربانی، گمنام، بندگی، کامیابی، عندلیب، ہم اور تم، صاعقہ، پلے بوائے، مس کولمبو، دامن اور چنگاری، دیور بھابی، دل ایک آئینہ، محبت، الزام، انتظار، کبھی الوداع نہ کہنا، میرا گھر میری جنت، انسانیت، دوستی، نمک حرام، اجنبی، بیٹا، معاملہ گڑبڑ ہے، ویر گڈ دنیا ویری بیڈ لوگ شامل ہیں۔
19899 ء میں انہوں نے لاہور سے ماہ نامہ ’’ہوش ڈائجسٹ‘‘ کا اجرأ کیا اور شام کا ایک روزنامہ اخباربھی شائع کیا مگر کچھ مجبوریوں کی بنا پر دونوں کچھ عرصہ ہی شائع ہو سکے۔ اس دوران نوائے وقت کے ایڈیٹر انچیف مجید نظامی نے ایک ہفت روزہ فیملی میگزین کے اجرأ کا پروگرام بنایا۔ پہلے اسے کراچی سے شائع ہونا تھا مگر جب علی سفیان آفاقی کو مجید نظامی صاحب نے ادارات کی ذمہ داری سونپی تو فیملی میگزین کو لاہور سے نکالنے کے پروگرام کو حتمی شکل دے کر مجید نظامی صاحب کی مشاورت سے سٹاف مکمل کیا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو فیملی میگزین کے بانی ایڈیٹرتھے جو دم آخرتک اسی سے منسلک رہے اور اسے خوب تر بنانے کے لئے کوشاں رہے۔

 علی سفیان آفاقی نے مختلف موضوعات پر متعدد کتابیں تصنیف کیں جن میں چند قابل ذکر یہ ہیں:
  •  دیکھ لیا امریکہ، 
  • امریکہ چلیں، 
  • ذرا انگلستان تک،
  •  دورانِ سفر،
  •  طلسمات فرنگ، 
  • خوابوں کی سرزمین،
  •  نیل کنارے، 
  • یورپ کی الف لیلہ، 
  • عجائبات فرنگ، 
  • گوریوں کا دیس، 
  • موم کا آدم،
  •  یورپ کا کوہ قاف، 
  • پیرس کی گلیاں،
  •  سفر نامہ ترکی،
  •  سفر نامہ سری لنکا، 
  • سفر نامہ سپین، سر چھایا نورجہاں، 
  • شعلہ نوا شورش کاشمیری، 
  • ساحر لدھیانوی،
  •  چاند چہرے، 
  • محمد علی جناح۔
علی سفیان آفاقی 27جنوری 20155ء کو لاہور میں انتقال کر گئے۔
بشکریہ طارق جمیل۔۔۔۔

Sunday, 15 May 2016

The untold story of Jinnah’s role in India’s first talkie ‘Alam Ara’-برصغیر کے پہلی بولتی فلم عالم آرا میں قائد اعظم کا کردار۔


برصغیر کی پہلی بولتی فلم “عالم آرا” سے بانی پاکستان محمد علی جناح کا بھی ایک دلچسپ تعلق ہے 
….دراصل ہوا یوں کہ اردشیر ایرانی اوئل میں اپنے ایک نوجوان گجراتی اسسٹنٹ محبوب خان کو فلم کا ہیرو بنانا چاہ رہے تھے مگر بعد ازاں ان کے کاروباری دماغ نے یہ فیصلہ بدل دیا , وہ ایک نئے چہرے کو پہلی بولتی فلم میں مرکزی کردار دینے سے ہچکچانے لگے اس لیے انہوں نے خاموش فلموں کے معروف اداکار “ماسٹر وٹھل” کو ہیرو ،اداکارہ “زبیدہ” کو ہیروئن اور تھیٹر کے مشہور اداکار “پرتھوی راج کپور” کو کریکٹر رول دیا….محبوب خان اس فیصلے سے اس قدر ناخوش ہوئے کہ انہوں نے اداکاری کرنے کے تمام خواب جلا کر ہدایت کاری کا راستہ چنا اور اس راستے نے انہیں ہندی فلموں کا لیجنڈ ہدایت کار بنا دیا ۔
اردشیر ایرانی نے یہ فلم کے منصوبے کو خفیہ رکھتے ہوئے تمام بنیادی صدابندی کا سامان امریکہ سے منگوایا۔
ماسٹر وٹھل شرادا فلم کمپنی سے وابستہ تھے اور شرادا کمپنی کے مطابق وہ کسی اور کمپنی کی فلم میں کام نہیں کرسکتے تھے اس لیے جب ماسٹر وٹھل نے عالم آرا کی آفر قبول کی تو شرادا کمپنی نے ان پر قرارداد شکنی کا مقدمہ دائر کردیا…ماسٹر وٹھل نے اس زمانے کے ممتاز قانون دان محمد علی جناح کو اپنا وکیل نامزد کیا , جناح نے نہ صرف ان کا بھرپور دفاع کیا بلکہ وہ یہ کیس بھی جیت گئے۔ یوں ماسٹر وٹھل اور عالم آرا کے درمیان حائل قانونی رکاوٹ دور ہوگئی- یوں برصغیر کی
پہلی بولتی فلم کو اس کا ہیرو مل گیا-

It was somewhere around 1930 when the idea of Alam Ara took root. Imperial Movietone boss  Mr. Ardershir Irani began harbouring thoughts of making India’s first talking and singing picture.

As there was no precedent in India of making a talkie, the odds Irani faced were huge. There were no soundproof stages nor technical know-how to make a film that had sound. Nevertheless, Irani decided to take the challenge head on. He decided to make a screen version of a popular stage play written by the doyen of Bombay dramatists, Joseph David, who agreed to adapt the play for the silver screen. The resulting film was Alam Ara.

Irani kept his project a secret. He picked up the basics of sound recording from an American expert.

Since Alam Ara was a talkie, the casting was of utmost importance.
For the hero, Irani had all but fixed on Mehboob Khan, the future director of classics like Aurat(1940), Anmol Ghadi (1946), Aan (1952) and Mother India (1957), but then decided to go for a more commercially viable name. As Alam Ara was a tale that also involved stunts and fight sequences, Irani thought of casting the biggest stunt star of silent cinema, Master Vithal, who was called the Douglas Fairbanks of India.
 He had since joined Sharada Studio and graduated to becoming a dashing action hero. In his eagerness to play the lead role in India’s first talkie, he broke his contract with Sharada and signed on with Irani. Sharada, however, refused to take this lying down and filed a case against Vithal for breach of contract.

Coming to Vithal’s legal aid was Bombay’s leading legal expert at the time Mr. Muhammad Ali Jinnah (Qaid-e-Azam).

Jinnah made a very effective defence of Vithal’s right to star in Alam Ara and ensured that Irani got the hero he wanted for his landmark film. That Jinnah had an affinity for the performing arts was well known. 

Ironically, after all the effort it took to win Vithal his dream role, it was discovered after filming began that the action hero’s Hindi diction was poor and he was unable to deliver his lines in Alam Ara convincingly.