Thursday, 10 August 2017

Salute to Dr Ruth Pfau ‘Pakistani's Mother Teresa’


یہ خاتون جرمنی کے شہر لائزگ کی رھنے والی تھی۔
پیشے کے لحاظ سے یہ ڈاکٹر تھیں۔
سن 1958ء کی بات ھے اس خاتون نے 30 سال کی عمر میں پاکستان میں کوڑھ (جزام) کے مریضوں کے بارے میں ایک فلم دیکھی‘ کوڑھ اچھوت مرض ہے جس میں مریض کا جسم گلنا شروع ہو جاتا ہے‘ جسم میں پیپ پڑجاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی انسان کا گوشت ٹوٹ ٹوٹ کر نیچے گرنے لگتا ہے‘
کوڑھی کے جسم سے شدید بو بھی آتی ہے‘ کوڑھی اپنے اعضاء کو بچانے کے لیے ہاتھوں‘ ٹانگوں اور منہ کو کپڑے کی بڑی بڑی پٹیوں میں لپیٹ کر رکھتے ہیں‘
یہ مرض لا علاج سمجھا جاتا تھا چنانچہ جس انسان کو کوڑھ لاحق ہو جاتا تھا اسے شہر سے باہر پھینک دیا جاتا تھا اور وہ ویرانوں میں سسک سسک کر دم توڑ دیتا تھا۔
پاکستان میں 1960ء تک کوڑھ کے ہزاروں مریض موجود تھے‘
یہ مرض تیزی سے پھیل بھی رہا تھا‘ ملک کے مختلف مخیرحضرات نے کوڑھیوں کے لیے شہروں سے باہر رہائش گاہیں تعمیر کرا دی تھیں‘
یہ رہائش گاہیں کوڑھی احاطے کہلاتی تھیں‘ لوگ آنکھ‘ منہ اور ناک لپیٹ کر ان احاطوں کے قریب سے گزرتے تھے‘ لوگ مریضوں کے لیے کھانا دیواروں کے باہر سے اندر پھینک دیتے تھے اور یہ بیچارے مٹی اورکیچڑ میں لتھڑی ہوئی روٹیاں جھاڑ کر کھا لیتے تھے‘
ملک کے قریباً تمام شہروں میں کوڑھی احاطے تھے‘ پاکستان میں کوڑھ کو ناقابل علاج سمجھا جاتا تھا چنانچہ کوڑھ یا جزام کے شکار مریض کے پاس دو آپشن ہوتے تھے‘ یہ سسک کر جان دے دے یا خود کشی کر لے۔
_______
یہ انتہائی جاذب نظر اور توانائی سے بھر پور عورت تھی اور یہ یورپ کے شاندار ترین ملک جرمنی کی شہری بھی تھی‘
زندگی کی خوبصورتیاں اس کے راستے میں بکھری ہوئی تھیں لیکن اس نے اس وقت ایک عجیب فیصلہ کیا‘یہ جرمنی سے کراچی آئی اور اس نے پاکستان میں کوڑھ کے مرض کے خلاف جہاد شروع کر دیا
اور یہ اس کے بعد واپس نہیں گئی‘ اس نے پاکستان کے کوڑھیوں کے لیے اپنا ملک‘ اپنی جوانی‘ اپنا خاندان اور اپنی زندگی تیاگ دی‘
انہوں نے کراچی ریلوے اسٹیشن کے پیچھے میکلوڈ روڈ پر چھوٹا سا سینٹر بنایا اور کوڑھیوں کا علاج شروع کر دیا‘
کوڑھ کے مریضوں اور ان کے لواحقین نے اس فرشتہ صفت خاتون کو حیرت سے دیکھا کیونکہ اس وقت تک کوڑھ کو اﷲ کا عذاب سمجھا جاتا تھا‘ لوگوں کا خیال تھا یہ گناہوں اور جرائم کی سزا ہے۔
چنانچہ لوگ ان مریضوں کو گناہوں کی سزا بھگتنے کے لیے تنہا چھوڑ دیتے تھے‘ ان کے لیے پہلا چیلنج اس تصور کا خاتمہ تھا‘
انھیں بیماری کو بیماری ثابت کرنے میں بہت وقت لگ گیا اور اس کے بعد مریضوں کے علاج کا سلسلہ شروع ہوا‘یہ عظیم خاتون اپنے ہاتھوں سے ان کوڑھیوں کو دوا بھی کھلاتی تھی اور ان کی مرہم پٹی بھی کرتی تھی
جن کو ان کے سگے بھی چھوڑ گئے تھے۔اس کا جذبہ نیک اور نیت صاف تھی چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ میں شفا دے دی‘
یہ مریضوں کا علاج کرتی اور کوڑھیوں کا کوڑھ ختم ہو جاتا‘
اس دوران ڈاکٹر آئی کے گل نے بھی انھیں جوائن کر لیا‘ ان دونوں نے کراچی میں 1963ء میں میری لپریسی سینٹر بنایا اور مریضوں کی خدمت شروع کردی‘

ان دونوں نے پاکستانی ڈاکٹروں‘ سوشل ورکرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی ٹریننگ کا آغاز بھی کر دیا ۔
یوں یہ سینٹر 1965ء تک اسپتال کی شکل اختیار کر گیا‘ان ہوں نے جزام کے خلاف آگاہی کے لیے سوشل ایکشن پروگرام شروع کیا‘
ڈاکٹر کے دوستوں نے چندہ دیا لیکن اس کے باوجود ستر لاکھ روپے کم ہو گئے‘
یہ واپس جرمنی گئی اور جھولی پھیلا کر کھڑی ہو گئی‘
جرمنی کے شہریوں نے ستر لاکھ روپے دے دیے اور یوں پاکستان میں جزام کے خلاف انقلاب آ گیا۔
وہ پاکستان میںجزام کے سینٹر بناتی چلی گئی یہاں تک کہ ان سینٹر کی تعداد 156 تک پہنچ گئی‘ ڈاکٹر نے اس دوران 60 ہزار سے زائد مریضوں کو زندگی دی۔
یہ لوگ نہ صرف کوڑھ کے مرض سے صحت یاب ہو گئے بلکہ یہ لوگ عام انسانوں کی طرح زندگی بھی گزارنے لگے۔

ان کی کوششوں سے سندھ‘ پنجاب‘ خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے جزام ختم ہو گیا اور عالمی ادارہ صحت نے 1996ء میں پاکستان کو ’’لپریسی کنٹرولڈ‘‘ ملک قرار دے دیا‘
پاکستان ایشیاء کا پہلا ملک تھا جس میں جزام کنٹرول ہوا تھا‘
یہ لوگ اب قبائلی علاقے اور ہزارہ میں جزام کا پیچھا کر رہے ہیں اور ان کا خیال ہے اگلے چند برسوں میں پاکستان سے جزام کے جراثیم تک ختم ہو جائیں گے۔
حکومت نے 1988ء میں ان کو پاکستان کی شہریت دے دی‘
#
اسے ہلال پاکستان‘ ستارہ قائداعظم‘ ہلال امتیاز اور جناح ایوارڈ بھی دیا گیا اور نشان قائداعظم سے بھی نوازا گیا۔ آغا خان یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹر آف سائنس کا ایوارڈ بھی دیا۔
جرمنی کی حکومت نے بھی اسے آرڈر آف میرٹ سے نوازا۔ یہ تمام اعزازات‘ یہ تمام ایوارڈ بہت شاندار ہیں لیکن یہ فرشتہ صفت خاتون اس سے کہیں زیادہ کی مستحق ہیں۔
جوانی میں اپنا وہ وطن چھوڑ دینا جہاں آباد ہونے کے لیے تیسری دنیا کے لاکھوں لوگ جان کی بازی لگا دیتے ہیں اور اس ملک میں آ جانا جہاں نظریات اور عادات کی بنیاد پر اختلاف نہیں کیا جاتا
بلکہ انسانوں کو مذہب اور عقیدت کی بنیاد پر اچھا یا برا سمجھا جاتا ہے‘
جس میں لوگ خود کو زیادہ اچھا مسلمان ثابت کرنے کے لیے دوسروں کو بلا خوف کافر قرار دے دیتے ہیں۔
ان کا نام ڈاکٹر روتھ فاؤ ھے۔۔

ڈاکٹر روتھ کا عین جوانی میں جرمنی سے اس پاکستان میں آ جانا اور اپنی زندگی اجنبی ملک کے ایسے مریضوں پر خرچ کر دینا جنھیں ان کے اپنے خونی رشتے دار بھی چھوڑ جاتے ہیں واقعی کمال ہے ۔
ڈاکٹر روتھ اس ملک کے ہر اس شہری کی محسن ہے جو کوڑھ کا مریض تھا یا جس کا کوئی عزیز رشتے دار اس موذی مرض میں مبتلا تھایا جو اس موذی مرض کا شکار ہو سکتا تھا۔
ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ حقیقت ہے یہ خاتون‘ اس کی ساتھی سسٹر بیرنس اور ڈاکٹر آئی کے گل پاکستان نہ آتے اور اپنی زندگی اور وسائل اس ملک میں خرچ نہ کرتے تو شاید ہمارے ملک کی سڑکوں اور گلیوں میں اس وقت لاکھوں کوڑھی پھر رہے ہوتے
اور دنیا نے ہم پر اپنے دروازے بند کر دیے ہوتے‘ ہمارے ملک میں کوئی آتا اور نہ ہی ہم کسی دوسرے ملک جا سکتے۔
یہ لوگ ہمارے محسن ہیں چنانچہ ہمیں ان کی ایوارڈز سے بڑھ کر تکریم کرنا ہو گی۔


Sunday, 29 January 2017

ALI SAFYAN AFFAQI (Writer, Producer, Director) علی سفیان آفاقی،،، ایک تحریر۔۔۔

علی سفیان آفاقی اداکارہ زیبا کے ہمراہ ایک یادگار تصویر

علی سفیان آفاقی
(1933ء ۔ 2015ء)
علی سفیان آفاقی کا شمار ایک طرف بہترین مصنفین کی صف اول میں ہوتا تھا تو دوسری طرف صحافت میں بھی اُنھوں نے اپنی صلاحیتوں کو منوایا، بطور سفرنامہ نگار بھی ان کا اسلوب جدا گانہ تھا۔فلمی مکالمہ نویسی اور کہانی نویس کی حیثیت سے بھی انہیں نے اپنے آپ کو منوایا۔
علی سفیان آفاقی 22۔ اگست 19333ء کو بھوپال کے شہر سیہور میں پیدا ہوئے۔ میرٹھ میں پرورش پائی اور قیام پاکستان کے بعد لاہورآگئے۔ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور سے گریجوایشن کی۔ 1951 ء میں اخبار ’’تسنیم‘‘ سے باقاعدہ صحافت کا آغاز کیا، بعد ازاں اخبار کے فلمی صفحہ کے انچارج بھی مقرر ہوئے اور یہیں سے ان کا فلمی دنیا سے ربط و ضبط بڑھا۔ فلمی صحافت میں ان دنوں شباب کیرانوی بھی فلمی رسالے کی ادارات کرتے تھے۔ یوں جب شباب کیرانوی نے فلم ’’ٹھنڈی سڑک‘‘ بنانے کا ارادہ کیا تو اس فلم کے مکالمے علی سفیان سے لکھوائے۔ اس کے بعد وہ کراچی کے ہفت روزہ ’’نگار‘‘ کے لئے لاہور کی ڈائری اور وقتًا فوقتًا مضامین بھی ’’علی بابا‘‘ کے قلمی نام سے لکھنے لگے مگر روزنامہ ’’آفاق‘‘ سے طویل وابستگی کی وجہ سے ان کا نام علی سفیان سے زیادہ ’’ آفاقی‘‘ ان کی پہچان بن گیا۔
 علی سفیان آفاقی مختلف اخبارات اور رسائل سے وابستہ رہے جن میں اقوام، آثار، آفاق، نوائے وقت، امروز، احسان، جنگ وغیرہ شامل ہیں۔

 فلمی دنیا میں آفاقی کی شہرت فلم ’’فرشتہ‘‘ اور ’’شکوہ‘‘ سے ہوئی۔ ان دونوں فلموں کے پر اثر مکالمے انہوں نے تحریر کئے تھے۔ انہی دنوں علی سفیان آفاقی نے ایک کہانی ’’کنیز‘‘ کے نام سے لکھی اور اسے کئی فلم سازوں کو سنایا مگر کسی کو پسند نہ آئی لیکن ان کو یقین تھا کہ اس کہانی کو فلما یا گیا تو اسے پسند کیا جائے گا۔ لہٰذا انہوں نے ہدایت کار حسن طارق کے ساتھ مل کر خود اس فلم کو بنانے کا فیصلہ کیا اور اداکارو حید مراد، محمد علی اور زیبا کو لے کر بحیثیت فلم ساز ’’کنیز‘‘ بنائی۔ یہ فلم باکس آفس پر کامیاب رہی۔ اسی فلم کے مکالموں پر انہوں نے نگار ایوارڈ حاصل کیا۔ فلم ’’کنیز‘‘ کی کامیابی نے ثابت کردیا کہ وہ مزاحیہ فلموں ہی کے نہیں ڈرامائی مکالمے بھی لکھ سکتے ہیں۔ بعد ازاں فلم ’’سوال‘‘ اور ’’جوکر‘‘ کے مکالموں کو بھی شائقین ہی نہیں قائدین نے بھی سراہا۔ اور پھر علی سفیان آفاقی نے مصنف وفلم ساز کے بعد بطور ہدایت کار فلم ’’آس‘‘ 1973ء میں بنائی جس میں محمد علی اور شبنم نے مرکزی اداکار کئے تھے۔ فلمی رسالہ ’’ممتاز‘‘ کے مالک رشید جاوید کے اشتراک سے بننے والی یہ فلم بھی سپر ہٹ رہی جس نے آٹھ نگار ایوارڈ حاصل کئے، ان میں سے چارایوارڈ علی سفیان آفاقی نے بطور فلم ساز، ہدایتکار ، کہانی نویس اور مکالمہ نویس حاصل کئے بلکہ 1982 ء سے 1984 ء تک تین سال مسلسل نگار ایوارڈ حاصل کرنے کی ’’ہیٹ ٹرک‘‘ بھی کی۔ علی سفیان آفاقی نیشنل فلم ایوارڈ جیوری کے 1988ء سے 1991ء تک ممبر بھی رہے۔
 علی سفیان آفاقی نے دیگر فلموں ہدایت کار فرید احمد کی فلم عند لیب ،ہدایت کارشریف نیئرکی فلم دوستی، ہدایت کار شمیم آرا کی فلم مس کو لمبو ،پلے بوائے، ہدایت کار لقمان کی فلم آدمی کے مکالمے بھی لکھے۔
 علی سفیان آفاقی نے تیس سالہ فلمی دور میں پچاس سے زائد فلموں کے مکالمے اور کہانیاں لکھیں۔ ان کی چند مشہور فلموں میں ایاز، آدمی، سزا،آس، ٹھنڈی سڑک، فرشتہ، آج کل، جوکر، قتل کے بعد، ایک ہی راستہ، آسرا، سوال، دیوانگی، فاصلہ، میں وہ نہیں، میرے ہم سفر، مہربانی، گمنام، بندگی، کامیابی، عندلیب، ہم اور تم، صاعقہ، پلے بوائے، مس کولمبو، دامن اور چنگاری، دیور بھابی، دل ایک آئینہ، محبت، الزام، انتظار، کبھی الوداع نہ کہنا، میرا گھر میری جنت، انسانیت، دوستی، نمک حرام، اجنبی، بیٹا، معاملہ گڑبڑ ہے، ویر گڈ دنیا ویری بیڈ لوگ شامل ہیں۔
19899 ء میں انہوں نے لاہور سے ماہ نامہ ’’ہوش ڈائجسٹ‘‘ کا اجرأ کیا اور شام کا ایک روزنامہ اخباربھی شائع کیا مگر کچھ مجبوریوں کی بنا پر دونوں کچھ عرصہ ہی شائع ہو سکے۔ اس دوران نوائے وقت کے ایڈیٹر انچیف مجید نظامی نے ایک ہفت روزہ فیملی میگزین کے اجرأ کا پروگرام بنایا۔ پہلے اسے کراچی سے شائع ہونا تھا مگر جب علی سفیان آفاقی کو مجید نظامی صاحب نے ادارات کی ذمہ داری سونپی تو فیملی میگزین کو لاہور سے نکالنے کے پروگرام کو حتمی شکل دے کر مجید نظامی صاحب کی مشاورت سے سٹاف مکمل کیا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو فیملی میگزین کے بانی ایڈیٹرتھے جو دم آخرتک اسی سے منسلک رہے اور اسے خوب تر بنانے کے لئے کوشاں رہے۔

 علی سفیان آفاقی نے مختلف موضوعات پر متعدد کتابیں تصنیف کیں جن میں چند قابل ذکر یہ ہیں:
  •  دیکھ لیا امریکہ، 
  • امریکہ چلیں، 
  • ذرا انگلستان تک،
  •  دورانِ سفر،
  •  طلسمات فرنگ، 
  • خوابوں کی سرزمین،
  •  نیل کنارے، 
  • یورپ کی الف لیلہ، 
  • عجائبات فرنگ، 
  • گوریوں کا دیس، 
  • موم کا آدم،
  •  یورپ کا کوہ قاف، 
  • پیرس کی گلیاں،
  •  سفر نامہ ترکی،
  •  سفر نامہ سری لنکا، 
  • سفر نامہ سپین، سر چھایا نورجہاں، 
  • شعلہ نوا شورش کاشمیری، 
  • ساحر لدھیانوی،
  •  چاند چہرے، 
  • محمد علی جناح۔
علی سفیان آفاقی 27جنوری 20155ء کو لاہور میں انتقال کر گئے۔
بشکریہ طارق جمیل۔۔۔۔

Monday, 20 June 2016

# Ramzan Program (Web Drama) | Ramadan Program based on Pak Tv shows

#رمضان پروگرام

(ویب ڈرامہ)

جس مہینے میں جنت مانگنی چاہیے، اُس مہینے میں میڈیا نے عوام کوکار، موٹرسائکل اور موبائل مانگنے پر لگا دیا ہے۔
   آجکل پاکستانی چنیلز رمضان کے نام پر جو کچھ دکھا رہیں وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔اس ماہ مقدس میں جس طرح سے عوام کی تربیت کی جارہی ہے۔ اس سے ہر دردمند دل اور احساس مسلمان لازمی واقف ہے۔ رمضان ٹرانسمشن کے نام پر سارا دن اور ساری رات جو کچھ دکھایا جاتا ہے وہ ڈھکی چھپی بات نہیں۔ میڈیا مالکان صرف ریٹنگ کے چکر میں ایک دوسرے آگے بڑھنے کے لیے ہر طرح کام کر گزرنے کو تیار ہیں۔ ایسے پروگرام جہاں ایثار رواداری کی بجائے لالچ اور طمع کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس ماہ مبارک میں دنیی تربیت کرنے کی بجائے انہیں دنیاوی لوازمات کا لالچ دیا جارہا ہے۔ نفسا نفسی اس کفیت اور اسکے اثرات کو ظاہر کرنے کے لیے یہ ویب ڈرامہ ترتیب دیا گیا ہے۔ مسائل کو اجاگر کیا گیا ہے تاکہ ہم اس پرنہ صرف سوچیں بلکہ اپنی نسلوں کو اس لالچ اورطمع سے بچائیں۔  ہیں سوچنا ہی نہیں بلکہ اس کے خلاف کچھ کرنا بھی ہوگا۔۔۔ 


DreamArts Creations presents its new webdrama "#RamzanProgram", which is based on the absurd & wacky television programs aired throughout the holy month of Ramadan. This webdrama is meant to subtly make us realize that we have resorted to materialism & fake pretences, even in such a holy month, rather than practicing selflessness & piety. Enjoy the Web Drama and give us your feedback.
#Ramzan  #Ramadan  #RamzanProgram #RamzanTransmission #HolyMonth

Written & Directed by: UMAR DHAMI
Cinematographers: ABDUL BASIT, NADEEM AHMAD
Cast: Ms. ARZU, Ms. SHABNAM, Mr. RAZA MAHMOOD

DreamArts Creation makes documentaries on historical places of Pakistan and the current social issues prevalent in our society. We also venture into making short informative films and motivational videos on social media for societal reform at a mass level.

Enjoy and give us your critique for improvement!!

SUBSCRIBE FOR MORE AWESOME CONTENT!
https://www.youtube.com/user/rajar007

Dreamarts creations Facebook page
https://www.facebook.com/dreamarts.creations/

Google Plus
https://plus.google.com/u/0/+UmaRDhami

Dailymotion:  www.dailymotion.com/rajar007

Blogs: http://umardhami.blogspot.com/

Visit us our Website:  http://www.dreamarts.co

Tuesday, 31 May 2016

Women Day | Wajood e Zan (Short Film Urdu | Hindi) وجود زن۔۔ خواتین کے دن پر خصوصی شارٹ فلم

 وجود زن۔۔ خواتین کے دن پر خصوصی شارٹ فلم


Every one address about the violence on woman which is physical.. Mentally torture is also equal important but people took no notice of their attitude because torture with word doesn't leave marks on body it leaves marks on soul.. i try to address the issue faced by female in daily routine by their husband, father or son.. Violence with words..
وجودِ زن۔۔ ایک شارٹ فلم جس میں خواتین کے حقوق کی بات کی گئی ہے۔
DreamArts Creations presents special Short film on 8th March, International Women Day. This short film aims at bringing out the importance of women's role-play in our society and their contribution in our day-to-day lives, which we, generally, tend to overlook.
Written by: Arifa Rana
Directed by: Umar Dhami
Cinematography: Nadeem Ahmed
Participants: Mr. Zahid Javed, Ms. Anarkali Iftikhar, Miss Shabnam, Ms. Arifa Rana, Mr. Mateen Jafar, & Little kid Dua.
(Special Thanks to Mr. Zahid Javed for facilitation)

SUBSCRIBE FOR MORE AWESOME CONTENT!
https://www.youtube.com/user/rajar007

Dailymotion:  http://www.dailymotion.com/rajar007

facebook:
http://www.facebook.com/dreamarts.creations

Blogs:
http://umardhami.blogspot.com/

Sunday, 15 May 2016

The untold story of Jinnah’s role in India’s first talkie ‘Alam Ara’-برصغیر کے پہلی بولتی فلم عالم آرا میں قائد اعظم کا کردار۔


برصغیر کی پہلی بولتی فلم “عالم آرا” سے بانی پاکستان محمد علی جناح کا بھی ایک دلچسپ تعلق ہے 
….دراصل ہوا یوں کہ اردشیر ایرانی اوئل میں اپنے ایک نوجوان گجراتی اسسٹنٹ محبوب خان کو فلم کا ہیرو بنانا چاہ رہے تھے مگر بعد ازاں ان کے کاروباری دماغ نے یہ فیصلہ بدل دیا , وہ ایک نئے چہرے کو پہلی بولتی فلم میں مرکزی کردار دینے سے ہچکچانے لگے اس لیے انہوں نے خاموش فلموں کے معروف اداکار “ماسٹر وٹھل” کو ہیرو ،اداکارہ “زبیدہ” کو ہیروئن اور تھیٹر کے مشہور اداکار “پرتھوی راج کپور” کو کریکٹر رول دیا….محبوب خان اس فیصلے سے اس قدر ناخوش ہوئے کہ انہوں نے اداکاری کرنے کے تمام خواب جلا کر ہدایت کاری کا راستہ چنا اور اس راستے نے انہیں ہندی فلموں کا لیجنڈ ہدایت کار بنا دیا ۔
اردشیر ایرانی نے یہ فلم کے منصوبے کو خفیہ رکھتے ہوئے تمام بنیادی صدابندی کا سامان امریکہ سے منگوایا۔
ماسٹر وٹھل شرادا فلم کمپنی سے وابستہ تھے اور شرادا کمپنی کے مطابق وہ کسی اور کمپنی کی فلم میں کام نہیں کرسکتے تھے اس لیے جب ماسٹر وٹھل نے عالم آرا کی آفر قبول کی تو شرادا کمپنی نے ان پر قرارداد شکنی کا مقدمہ دائر کردیا…ماسٹر وٹھل نے اس زمانے کے ممتاز قانون دان محمد علی جناح کو اپنا وکیل نامزد کیا , جناح نے نہ صرف ان کا بھرپور دفاع کیا بلکہ وہ یہ کیس بھی جیت گئے۔ یوں ماسٹر وٹھل اور عالم آرا کے درمیان حائل قانونی رکاوٹ دور ہوگئی- یوں برصغیر کی
پہلی بولتی فلم کو اس کا ہیرو مل گیا-

It was somewhere around 1930 when the idea of Alam Ara took root. Imperial Movietone boss  Mr. Ardershir Irani began harbouring thoughts of making India’s first talking and singing picture.

As there was no precedent in India of making a talkie, the odds Irani faced were huge. There were no soundproof stages nor technical know-how to make a film that had sound. Nevertheless, Irani decided to take the challenge head on. He decided to make a screen version of a popular stage play written by the doyen of Bombay dramatists, Joseph David, who agreed to adapt the play for the silver screen. The resulting film was Alam Ara.

Irani kept his project a secret. He picked up the basics of sound recording from an American expert.

Since Alam Ara was a talkie, the casting was of utmost importance.
For the hero, Irani had all but fixed on Mehboob Khan, the future director of classics like Aurat(1940), Anmol Ghadi (1946), Aan (1952) and Mother India (1957), but then decided to go for a more commercially viable name. As Alam Ara was a tale that also involved stunts and fight sequences, Irani thought of casting the biggest stunt star of silent cinema, Master Vithal, who was called the Douglas Fairbanks of India.
 He had since joined Sharada Studio and graduated to becoming a dashing action hero. In his eagerness to play the lead role in India’s first talkie, he broke his contract with Sharada and signed on with Irani. Sharada, however, refused to take this lying down and filed a case against Vithal for breach of contract.

Coming to Vithal’s legal aid was Bombay’s leading legal expert at the time Mr. Muhammad Ali Jinnah (Qaid-e-Azam).

Jinnah made a very effective defence of Vithal’s right to star in Alam Ara and ensured that Irani got the hero he wanted for his landmark film. That Jinnah had an affinity for the performing arts was well known. 

Ironically, after all the effort it took to win Vithal his dream role, it was discovered after filming began that the action hero’s Hindi diction was poor and he was unable to deliver his lines in Alam Ara convincingly.

Saturday, 30 April 2016

BANDA-E-MAZDOOR (Short film) بندہ مزدور

DreamArts Creation presents a short film 'Banda-e-Mazdoor' on Labour Day. DreamArts Creations has been producing short informative films and motivational videos for societal reform and this venture is also a sequence to that.
Directed & Produced by: Umar Dhami
Cinematography by: Abdul Basit & Nadeem Ahmed
Written by: Ms. Arifa Rana
Cast: Aizaz Mirza, Ali, Rj Aqsa Arif Mateen Jafar
Special Thanks: Advocate Aasim Mumtaz
Enjoy and give us your critique for improvement!!

Subscribe for new videos http://www.youtube.com/user/rajar007

Dailymotion: http://dailymotion.com/rajar007

Blogs: www.umardhami.blogspot.com


Facebook page: www.facebook.com/dreamarts.creations

Sunday, 13 March 2016

MOBILE FRAUD- ZARA BACH KAY (Short film) موبائل فراڈ۔ ذرا بچ کے (شارٹ فلم)

DreamArts Creations presents "MOBILE FRAUD .. Zara Bach kay" (short film)
The Purpose of this presentation is to sensitize innocent people 
about the frequent attempts of frauds throug mobile / internet happening around them these days. Awareness can make a huge difference in curbing such fraudulent attempts.
Written by: NATASHA NAYYER
Produced by: ABDUL BASIT
Directed by: UMAR DHAMI

ڈریم آرٹس کیریشن پیش کرتے ہیں شارٹ فلم۔۔۔ موبائل فراڈ۔ ذرا بچ کے۔
اس شارٹ فلم کا مقصد لوگوں کو ایسے فراڈ سے خبردار کرنا ہے جو عام لوگوں کی معصومیت کو استعمال کر کے انہیں لالچ دے کر فراڈ کر جاتے ہیں۔ اس کے لیے وہ موبائل ، انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ امید کی جا سکتی ہے اس کوشش سے اس قسم کے فراڈ سے آگاہی ہو گی۔
تحریر: نتاشہ نیر
پیشکش: عبدلباسط
ہدایات: عمر دھامی



Monday, 7 December 2015

Mobile Package (Short Film)

MOBILE PACKAGES (SHORT FLIM)

Dream Arts Creations present a short documentary on Mobile Packages, this is an effort to explain how usage of these Useless Packages are destroying our ethical, moral and Islamic values. Main target of these packages is our youth, who are not only damaging their future careers but also destroying their moral values openly.
Produced by ABDUL BASIT
Directed by UMAR DHAMI

Saturday, 27 June 2015

فیس بک رنگین ڈی پی لگانے سے پہلے یہ پڑھ لیں۔۔۔Read it before Color Facebook DP



جیسا کہ آپ کو علم ہوگا کہ امریکی سپریم کورٹ نے ایک ہی جنس کے افراد کے درمیان شادی کی اجازت دے دی ہے۔ اس خبر کو دنیا میں آزادی اظہا کے حوالے سے دیکھا جا رہا ہے۔ اور مغربی دنیا خاص طور امریکہ میں اس مکروہ عمل کے حق میں دلیلیں اور ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔ اور ہرطرف لوگوں کی خوشیاں مناتے تصاویر شئیر کی جا رہی ہیں۔



فیس بک بھی کہاں پیچھے رہ سکتا ہے۔ اس نے اس مکروہ خوشی کے لیے "ہم جنس پرستوں" کے رنگ برنگے جھنڈے یا نشان کو بطور ڈی پی DP کی آپشن دی ہے تاکہ لوگ اس خوشی میں شامل ہو سکیں۔
ہمارے معصوم لوگ اس بارے میں قطعی لا علم ہیں۔ اور انہیں اس قوسِ قزح والی رنگین ڈی پی کا پتہ نہیں اور وہ اسے اپنی وال پے لگا رہے ہیں۔ ان سے گزارش ہے اس بات کی حقیقت کو سمجھتے ہوئے اس مکروہ فعل کی خوشی میں نادانستہ شامل نہ ہوں۔
شکریہ ۔۔۔ عمر دھامی

Saturday, 20 June 2015

SHAHI HAMMAM (Short Documentary film on A ROYAL BATH) Lahore) شاہی حمام دیلی دروازہ (مختصر ڈاکیومنڑی فلم)


A look at Royal Bath:

Baths were mostly used by Turks and Persians. Beautiful baths were used to build for nobles and royal chiefs. There were hot, cold, and steam bath facilities were available. Mughals brought the Persian culture with them to the Sub-continent. And with a blend of Persian, Turkish, and Indian culture, they preserved a new architecture.
Lahore is famous the world over for its historical buildings. Each of them is an ample proof of their makers’ taste. Ancient Lahore was a walled city having 12 gates. A security wall and strong gates gave it a distinction among other cities. One of the gates is called Delhi gate because it led to Delhi. There was a big beautiful bath adjacent to Delhi gate, used by travellers and others. In common, it was called Royal Bath. In the reign of Emperor Shahjahan, it was built by the then governor of Lahore, Hakeem Aleem-ul-Deen, known as Nawab Wazeer Khan in 1634. He took great interest in social welfare during his governorship. Wazeer Khan Mosque built is still an example of its own.
The total building area is 1100 square feet. This beautiful building was a master piece of the techniques of that era. Pools were built there for hot and cold shower as well as steam bath. Arrangement s for ladies was separate. Massage facilities were also there except bath. Dwellings were equipped with drawings and paintings that are still intact despite of present age infirmness.
During Sikh era in Punjab, it got irreparable loss along with other buildings.And it was converted into ruins from a beautiful bath. In British era, it was used as a school. While government of Pakistan, declaring it a national asset, paid special attention on its restoration. Thus, with these efforts it’s still there to show the performance of the architects.
Now the pools for shower are filled with water. This domed building still has the water system intact which is worth seeing.
In the history of architecture engineering, separate system for hot and cold shower as well as steam bath under one roof is an example of its own. Piping network for transmitting water is certainly a worth following thing for today’s architecture engineers.
Muslims were so advanced in architecture engineering that time too, the design of Royal Bath proves. Royal Bath’s building consists of two parts, east and west. East part was meant for males, and west for females. Along with eastern wall, there was a well to transmit water to bathrooms with the help of pipelines.
Its building is constructed with small bricks and white lime. It’s self-explanatory for Mughal architectural skills.

Punjab tourism got hold of Royal Bath in 1992. Tourists come here, see it, and enjoy the architectural grandeur. In its design, echo system is developed in such a way that a voice is felt coming from each side which can be called the best sound system of this age.

Written & Directed by :  UMAR DHAMI
Voice over:  HAFSA KAZIM
Produced by : ABDUL BASIT
DreamArts Creations


شاہی حمام ۔۔۔ ایک نظر۔۔

زیادہ تر حمام ایرانی اور ترکی استعمال کیا کرتے تھے. خوبصورت حمام شرفا اور شاہی سرداروں کے لے تعمیر جاتے تھے جہاں بھاپی ، گرم اور ٹھنڈے پانی سے غسل کی سہولت موجود تھی. مغل جب برصغیر میں آئے تو ایرانی ثقافت بھی لائے۔ اور مغلیہ عمارات نے ایرنی، ترکی اور ہندوستانی ثقافت کو ملا کر نئ طرز تعمیر کو دوام بخشا۔
لاہور۔۔ جو اپنی تاریخی عمارات کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور و معروف ہے اور یہاں کی ہر تاریخی عمارت اپنے بنانے والے کے حسنِ ذوق کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ قدیم لاہور 12 دروازوں کے ساتھ فصیل میں بند شہر تھا.شیر کی حفاظت کے لیے فصیل اور اسکے مضبوط دروازے اسے اُس بھی دوسرے شہروں سے ممتاز کرتے تھے. دہلی دروازہ دہلی کی جانب ہونے کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس دروازے سے متصل ایک خوبصورت اوربڑا حمام تھا۔ جسے شہر میں آنے والے مسافراور دوسرے لوگ استعمال کیا کرتے تھے۔ عرف عام میں یہ شاہی حمام کہلایا۔ یہ حمام شہنشاہ شاہجہاں کے دور میں لاہور کے گورنر حکیم علیم الدین انصاری المعروف نواب وزیر خاں نے 1634ء میں تعمیر کروایا تھا۔ حکیم صاحب نے اپنے دور میں رفاہ عامہ کے کاموں میں خصوصی دلچسپی لی۔ان کی تعمیر کردہ مسجد وزیر خآن آج بھی اپنی مثال آپ ہے۔
شاہی حمام کا کل رقبہ 1100 مربع فٹ ہے. یہ خوبصورت عمارت اپنے دور کی بہترین تکنیک کا شہکار تھی۔حمام میں گرم ، ٹھنڈے پانی کے علاوہ بھاپی غسل کے لیے بھی حوث بنائے گئے تھے۔جبکہ خواتین کے لیے علیحدہ انتظام تھا.حمام میں غسل کے علاوہ مساج کی سہولت تھی۔عمارت کے درودیواروں کو خوبصورت نقاشی سے آراستہ کیاگیا۔اور اس کی خوبصورتی کے ثبوت زمانے کی زبوں حالی کے باوجود آج بھی دیکھائی دیتے ہیں۔

مغلیہ عہد کے بعد سکھوں کے دور حکومت میں جہاں دوسری عمارات ان کے ہاتھوں محفوظ نہ رہ سکی وہاں اسے بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ اور یہ حمام خوبصورت عمارت سے کھنڈرمیں تبدیل ہو گیا۔.برطانوی دور میں،اس عمارت کو سکول کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا۔ جبکہ حکومتِ. پاکستان نے اسے قومی اثاثہ قرار دے کر اس کی بحالی پر خصوصی توجہ دی۔ اور یوں یہ حمام حکومتی کوششوں کے سبب اپنے معماروں کی کارکردگی دیکھانے کو موجود ہے۔
اب شاہی حمام کےاندر غسل کے لیے بناے حوث بھر دیے گئے ہیں۔ خوبصورت گمبندوں سی بنی عمارت میں اب بھی پانی کا وہ اننتظام موجود ہے جو دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ (یہ ڈاکیومنٹری 2012ء میں بنائی گئ تھی۔ اب حکومت ِ پاکستان نے اسےاپنی شکل میں بحال کیا ہے اور حوثوں اور تالابوں کی کھدائی کردی گئی ہے۔)
ایک چھت کے نیچے گرم ، ٹھنڈے اور بھاپی غسل کا انتطام کرنا، اس وقت کی انجیرنگ کا اپنی مثال آپ ہے۔
گرم ، ٹھنڈے اور بھاپی پانیوں کی ترسیل کے لیے حمام میں نالیوں کا جال بچھایا گیا ہے۔ جو آج بھی تعمیراتی انجیرنگ کے لیے قابلِ تلقید مثال ہے۔
شاہی حمام کو دیکھتے ہوئے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ تعمیراتی انجینئرنگ میں اُس وقت مسلمان بہت آگے تھے۔
شاہی حمام کی عمارت دو حصوں، مشرق اور مغرب پر مشتمل ہے. مشرقی حصہ مردوں کے لئے، اور مغربی عورتوں کے لئے تھا.عمارت کی  مشرقی دیوار کے ساتھ ایک کنواں تھا جس کا پانی نالیوں کے ذریعے غسل والے کمروں میں لایا جاتا تھا.
عمارت کی تعمیر میں چھوٹی اینٹ اور چونے کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ عمارت مغل تعمیراتی مہارت کا منہ بولتاثبوت ہے۔
پنجاب ٹورازم کو 1992 میں شاہی حمام کا چارج دیاگیا تھا۔ سیاح یہاں آتے اسے دیکھتے ہیں ، اور تعمیراتی حسن سے لطف اندوز ہوتے ہیں . عمارت کی تعمیراتی بناوٹ میں بازگشت کا اس طریقہ سے اہتمام کیا گیا ہے کہ آواز کی گونج تمام اطراف سے آتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔جسے موجودہ دور کا بہترین ساونڈ سسٹم کہ سکتے ہیں۔.
تحریر و ہدایات: عمر دھامی
آواز: حفصہ کاظم
پیشکش: عبدلباسط

ڈریم آرٹس کیریشن




SHAHI HAMAM AIK NAZAR (A LOOK AT ROYAL BATH... by rajar007


अधिकांश स्नान ईरानी और तुर्की इस्तेमाल किया करते थे। सुंदर स्नान शरफ़ा और शाही सरदारों ले निर्माण जाते थे जहां भाप, गर्म और ठंडे पानी से स्नान की सुविधा मौजूद थी। मुगल जब उपमहाद्वीप में आए तो ईरानी संस्कृति भी लाए। और मुगल इमारतों ने ईरनी, तुर्की और भारतीय संस्कृति को मिलाकर नई शैली निर्माण दवाम दिया।
लाहौर .. जो अपनी ऐतिहासिक इमारतों की वजह से दुनिया भर में मशहूर है और यहां की हर ऐतिहासिक इमारत अपने निर्माता के हसन स्वाद के लिए बोलती है। प्राचीन लाहौर 12 दरवाजों के साथ फ़ायरवॉल बंद शहर था.शियर की सुरक्षा के लिए फ़ायरवॉल और उसके मजबूत दरवाजे उसे भी अन्य शहरों से अलग करते थे। दिल्ली दरवाजा दिल्ली की ओर होने के कारण प्रसिद्ध है। इस दरवाजे से कनेक्ट एक सुंदर ाोरबड़ा स्नान था। जिसे शहर में आने वाले मसाफ़्राोर दूसरे लोग इस्तेमाल किया करते थे। उर्फ आम में शाही स्नान कहलाया। यह स्नान सम्राट शाहजहां के दौर में लाहौर के गवर्नर हकीम अलीम उद्दीन अंसारी उर्फ़ नवाब मंत्री खान ने 1634 में निर्माण करवाया था। हकीम साहब ने अपने दौर में परोपकारी जनसंपर्क के कार्यों में विशेष रुचि ली.ान निर्माण की मस्जिद मंत्री खान आज भी उदाहरण आप है।
शाही स्नान का कुल क्षेत्रफल 1100 वर्ग फुट है। यह सुंदर इमारत अपने दौर की बेहतरीन तकनीक का नगकार थी.हमाम गर्म, ठंडे पानी के अलावा भाप स्नान के लिए भी होत बनाए गए थे.जबकह महिलाओं के लिए अलग प्रबंधन था.हमाम में स्नान के अलावा मालिश की सुविधा थी.िमारत के दरवदीारों सुंदर नकाशिय से सजी कयागया.ाोर अपनी सुंदरता के सबूत जमाने भों हाली के बावजूद आज भी दिखायी देते हैं।
मुगल कार्यकाल के बाद सिखों के शासनकाल में जहां दूसरी इमारतों उनके हाथों सुरक्षित न रह सकी वहाँ उसे भी अविश्वसनीय भरपाई नुकसान पहुंचा। और यह स्नान सुंदर इमारत से खनडरमें बदल गया..बर्तानवी दूर, इस इमारत को स्कूल के रूप में इस्तेमाल किया जाता रहा। जबकि सरकार। पाकिस्तान ने उसे राष्ट्रीय सम्पत्ति घोषित कर उसकी बहाली पर विशेष ध्यान दिया। और यूं यह स्नान सरकारी प्रयासों के कारण अपने निर्माताओं प्रदर्शन दिखाया को मौजूद है।
अब शाही स्नान भीतर स्नान के लिए बनाया होत भर दिए गए हैं। सुंदर गम्बनदों सी बनी इमारत में अभी भी पानी का वह ाननतठाम मौजूद है जो देखने के अंतर्गत आता है। (यह डाक्योमनटरी 2012 में बनाई गई थी। अब पाकिस्तान सरकार ने उसे अपनी शक्ल में बहाल किया है और होतों और पूल की खुदाई कर दी गई है।)
एक छत के नीचे गर्म, ठंडा और भाप स्नान का इंतजाम करना, इस समय ानजीरनग का अपनी मिसाल आप है।
गर्म, ठंडा और भाप पानी वितरण के लिए स्नान में नालियों का जाल बिछा है। जो आज भी निर्माण ानजीरनग के लिए सक्षम तलकीद उदाहरण है।
शाही स्नान को देखते हुए यह बात साबित होती है कि निर्माण इंजीनियरिंग में इस समय मुसलमान बहुत आगे थे।
शाही स्नान भवन दो भागों, मध्य और पश्चिम शामिल हैं। पूर्वी भाग पुरुषों के लिए, और पश्चिमी महिलाओं के लिए था.िमारत की पूर्वी दीवार के साथ एक कुआं था जिसका पानी नालियों के माध्यम स्नान वाले कमरे में लाया जाता था।
भवन निर्माण में छोटी ईंट और चूने का इस्तेमाल किया गया है। यह इमारत मुगल वास्तुशिल्प कौशल का मुंह बोलतातबूत है।
पंजाब टूरिज्म को 1992 में शाही स्नान का प्रभार दिया गया था। पर्यटक यहां आते उसे देखते हैं, और निर्माण हसन का आनंद लें। भवन निर्माण बनावट में गूंज का इस तरीके से आयोजित किया गया है कि ध्वनि की गूंज सभी पक्षों से आती हुई महसूस होती जिसे मौजूदा दौर का सबसे अच्छा साविंड प्रणाली कह सकते हैं ..
लेख और निर्देश: उम्र धाम
आवाज: हफ्साह काज़िम
पेशकश: िबदलबास्

ड्रीम कला कीरियशन

Friday, 12 June 2015

Gurdawara Rori Sahib (Short Documentary Urdu / Hindi) گردوارہ روڑی صاحب गुरुद्वारा रोरी साहिब

گردوارہ روڑی صاحب ۔۔ پرایک مختصر سی ڈاکیومنٹری فلم ہے۔ جسے ڈریم آرٹس نے پیش کیا ہے۔
ایمن آباد (پاکستان) میں واقع اس گردوارہ کے متعلق یہ مشہور ہے کہ سکھوں کے روحانی رہنما بابا گرونانک یہاں آئے تھے۔ اور چونکہ یہ زمین پتھریلی تھی۔ اور یہاں بیٹھ کر انہوں نے اس روڑی پر عبادت کی تھی۔ لہزا اس جگہ کو اب گردوارہ روڑی صاحب کہتے ہیں۔
پیشکش ڈریم آرٹس 
ہدایات   عمر دھامی
गरदवारह रोड़ी साहिब .. पुराीद छोटी डाक्योमनटरी निलम है। जिसे ड्रीम आर्ट्स ने पेश किया है।
ऐमन आबाद (पाकिस्तान) में स्थित इस गरदवारह संबंधित यह प्रसिद्ध है कि सिखों के आध्यात्मिक नेता बाबा गरोनानक यहां आए थे। और चूंकि यह भूमि पथरीली थी। और यहाँ बैठ कर उन्होंने इस रोड़ी पर पूजा की थी। लहज़ा उस जगह को अब गरदवारह रोड़ी साहिब कहते हैं।
पेशकश ड्रीम आर्ट्स
निर्देश उम्र धामीी

It is short Urdu documentary (English Subtitle) on GURUDWARA RORI SAHIB EMINABAD. produced & Directed by UMAR DHAMI.




Gurudawara Rori Sahib (short Documentary) by rajar007

Eminabad is a famous town of Gujranwala (Pakistan) district. It is one of historical shrine of Sikh relegion.Jagat Guru Nanak Sahib had stayed on the seat of pebbles at this place and it was from here that he was taken as a prisoner by the invading armies of King Babar, in Samvat 1578.

This name of the Gurudwara is derived from the place Rori Sahib where Guru Nanak Dev stayed. A metalled road from Lahore city leads to this village. Guru Nanak visited this village many a times as his maternal grandparents lived near an adjacent village Dara Chahal.

The construction of the shrine was started by Bhai Wadarva Singh. There was a pool which Naria, one of his devotees and village dweller expanded this pool to a tank.

DreamArts Presents
Directed by UMAR DHAMI

Monday, 8 June 2015

AHSAAS (Urdu Short film on Religious harmony) احساس (اردو/ ہندی مختصر فلم برائےبین الزہب ہم آہنگی)

احساس۔۔۔ بین المزہب ہم آہنگی پر مبنی ایک مختصر سی فلم ہے۔ جس میں بھائی چارے کا حقیقی پہلو دیکھایا ہے کہ کس طرح اگر ہم ایک دوسرے مزاہب کے تہوار کا خیال رکھیں توزندگی کو توازن بنایا جا سکتا ہے۔
کہانی بیگم رافیہ اور اسکی عیسائی ملازمہ رضیہ کی ہے۔ جو کہ اپنے تہوار کی خوشیوں میں شریک ہونے کے لیے چھٹی چاہیتی ہے اور بیگم رافیہ اس منع کر دتی ہے کہ گھر میں کام کا حرج ہوگا۔۔ لیکن جب وہ اپنی بیٹی کو بین الامزہب ہم آہنگی کا مطلب سمجھاتی ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کے اہنے قول اور فعل میں کتنا تضاد ہے۔

Religious harmony is a thing easier said than done. We all claim to have respect for the followers of other religions and their rights but in real we are quite failed in doing so. Normally, we want to get more and more work and services from the followers of other religions working around but don't ready to give them space for their festivals and to perform their religious duties. Thus, we show disrespect to them, pretty overturning our claims.
The said movie Ahsaas presented by Dream Arts Creations has the same idea, bearing the message that with just a little patience and consider, we not only can add to their happiness but also win their respect for Islam and Muslims as a peaceful religion and nation.

Description:
Mrs. Rafia has a christian maid named Razia. Razia begs for leave on the occasion of Easter. But Rafia Begum refuses and insists has to come on work.
The same day, Rafia's doughter  named Nawaal asks "what is meaning of Religious Harmony & Respect"?. She tell her it means we should respect other religions and their festivals and show care for the people following them. That very moment, her refusal to give Razia leave flashes back in mind. She then decides to rectify her mistakes.
On the other hand, Razia comes on duty with a heavy heart, however , has brought a cake to greet his mistress the Easter. Rafia Begum shows kindness to her and gives leave from duty and also give some gifts.
This way Raifa Begum has shown herself as a role model for her children and given them solid lesson of Religious Harmony and Respcet.

Script / Screen play:              RIZWANA SHAIKH
Editing:                                  UMAR DHAMI, ABDUL BASIT
Cinematography:                 UMAR DHAMI, ABDUL BASIT
Producer:                               ABDUL BASIT
Director:                                 UMAR DHAMI
DREAMARTS Creations
Email:             dream.arts@live.com
         
Team Memebers:

UMAR DHAMI
ABDUL BASIT: 
RIZWANA SHAIKH
ASIF AWAAN
RAZA MAHMOOD
RAHEELA BINISH
RAFIA IFTIKHAR
AREEJ
ALEEHA
DUA.

on YOUTUBE



AHSAAS (Urdu Short film on Religious harmony... by rajar007


Thursday, 23 April 2015

MELA WARIS SHAH (WARIS SHAH FAIR)

DreamArts Presents a short Documentary on MELA WARIS SHAH. Directed by UMAR DHAMI. Waris Shah (Punjabi: وارث شاہ, ਵਾਰਿਸ ਸ਼ਾਹ) (1722--1798) was a Punjabi Sufi poet, renowned for his contribution to Punjabi literature. His tomb at Jandiala Sher Khan, District Sheikhupura, Punjab (Pakistan). Documentary filmed dated 25 September 2013.



MELA WARIS SHAH (WARIS SHAH FAIR) by rajar007